مساجد کاتقدس
کبھی سوچا نہ تھا کہ یہ دن بھی آئیں گے ،
[2010-02-04] دوحادثات اورمیڈیا ٹرائل
لاہور میں ہونیوالے دوحادثات کاان دنوں ہمارے میڈیا پربڑا چرچا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب جاویدمحمود کی گاڑی سے کرنل (ر)اکرام اللہ کی ہلاکت اورلاہوربارایسوسی ایشن کے سابق صدر چودھری محمد نعیم ایڈووکیٹ کی گھریلو ملازمہ شازیہ کا مبینہ قتل ،یہ دونوں افسوسناک واقعات ان دنوں زبان زدعام ہیں۔ان قیمتی جانوں کے ضیاع پرہرکوئی رنجیدہ ہے ۔تاہم ایک حادثے اورقتل میں زمین آسمان کافرق ہوتا ہے ۔کوئی بھی حادثہ غفلت یاپھر غلطی سے ہوتا ہے لیکن قتل ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت اپنے مخصوص مقاصد اورمفادکیلئے یاپھر اچانک اشتعال میں آنے پرکیا جاتا ہے ۔حادثے اورقتل کے محرکات یاواقعات مختلف ہوتے ہیں ۔چیف سیکرٹری پنجاب جاوید محمود کی گاڑی سے کرنل (ر)اکرام اللہ کی ہلاکت ایک حادثہ ہے، اس میں ڈرائیور کی غلطی یاغفلت توہوسکتی ہے لیکن بدنیتی نہیں ہوسکتی۔غلطی سے چشم پوشی کی جاسکتی ہے لیکن بدنیتی کوکسی قیمت پرمعاف نہیں کیا جاسکتا۔ڈرائیور کی غلطی یاغفلت کی سزا گاڑی میں سوارافراد کونہیں دی جاسکتی ۔اگر کسی بس ڈرائیور کی غلطی سے کوئی حادثہ ہوجائے توبس میں سوارافراد کوقصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔اگر کسی ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہوگاتواس کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ320 اورڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے کی صورت میں دفعہ 322 کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ جوکوئی شخص بے اختیاطی یاغفلت سے گاڑی چلاتے ہوئے کسی انسان کوہلاک کردے تواسے قتل خطا کامرتکب سمجھا جائے گا۔چیف سیکرٹری جاوید محمود کووزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے ساتھ پنجاب کی تعمیروترقی کیلئے کام کرنے کی سزانہ دی جائے ۔جاویدمحمود وزیراعلیٰ پنجاب کے ملازم نہیں پنجاب کے چیف سیکرٹری ہیں ۔گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا جاوید محمودکی گاڑی سے ہونیوالے حادثے کے بارے میں بیان استدلال سے عاری اورمحض تعصب پرمبنی ہے ۔کرنل (ر)اکرام اللہ کی ہلاکت توبظاہر ایک حادثہ تھی لیکن اس پرگورنر پنجاب نے بڑا سخت بیان دیا ہے ،تاہم وہ بدنام زمانہ این آراوکو تمغہ قراردیتے اورنہ ملنے پربڑے افسردہ ہیں ۔
میں لاہور پولیس کے ایک ایس ایچ او جاوید خان کوجانتا ہوں جومیاں نوازشریف کاجانثار سپاہی تھا،وہ پرویز مشرف کے دور میں سرکاری گاڑی کی ٹکر سے مارا گیا لیکن مقدمہ درج ہونے کے باوجود آج تک نہ توکسی حکمران نے اس کے پسماندگان سے اظہارافسوس کیااورنہ کسی نے اس کے ورثاکو انصاف فراہم کرنے کا بیان دیا۔مقتول کی بیوہ اوراس کے بیٹے حارث جاوید نے کئی بار میاں نوازشریف سے ملاقات کیلئے وقت مانگا لیکن وہ ہربار میاں نوازشریف کے ساتھ ملنے میں ناکام رہے۔
پہلے میڈیا صرف نیوز بریک کرتا تھا اوراس کافالواپ دیتا تھا لیکن اب میڈیا عدالت میں کاروائی شروع ہونے سے پہلے ہی اپنافیصلہ سنادیتا ہے۔ملزم کاجرم ابھی ثابت نہیں ہوتا لیکن ہمارے کچھ پرائیویٹ ٹی وی چینل ملزم اوراس کے خاندان کامیڈیا ٹرائل شروع کردیتے ہیں اورمعاشرے میںملزم کے بارے میں ایک منفی تاثر قائم کردیاجاتاہے ۔میڈیا کے سنسی خیز تبصروں سے ملزم کے خاندان والے اوربالخصوص بچے کس طرح متاثر ہوتے ہیں اس بات سے کسی کوسروکار نہیں،بس دکانداری چلنی چاہئے ۔ معاشرے کی نفسیات پران سنسی خیز تبصروں کاکیااثر پڑتا ہے ،کسی کواس بات کی پرواہ نہیں ہے۔ عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے جس طرح چودھری محمد نعیم ایڈووکیٹ کا میڈیا ٹرائل کیا گیا ،اس پرکوئی مہذب انسان خوش نہیں ہے ۔الحمدللہ پاکستان میں مذہبی تعصب پایاجاتا ہے اورنہ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھاجاتاہے۔بھارت میں تو پاکستانی کرکٹ پلیئرزکے حق میں بات کرنے پرانتہاپسندہندو جماعت شوسینا نے فلمسٹارشاہ رخ خان اورفلمسٹارعامر خان کوڈرانادھمکاناشروع کردیا ہے ۔شازیہ قتل کیس کو دنیا کے سامنے منفی انداز میں پیش کیا جارہا ہے،ہمارے میڈیا کوپاکستان کاوقاربھی ملحوظ خاطررکھناچاہئے ۔شازیہ قتل کیس کے حوالے سے متحرک این جی اوز کے نمائندے اورمسیحی رہنماءسیاست چمکانے کیلئے پاکستان کوبدنام نہ کریں۔پاکستان میں عدلیہ آزادہے اورانصاف کے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں ۔پاکستان میں ایک مسیح شازیہ نہیں سینکڑوں مسلمان شازیہ بھی ہیں جو موت کی گھاٹ اتار دی گئیں لیکن ان کے خاندان والے صبراورامید کادامن تھام کر حصول انصاف کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔
ارباب اقتدار اوربااثرشخصیات مظلوم خاندانوں کے ساتھ اظہار افسوس اوراظہار ہمدردی کیلئے ان کے گھروں میں ضرورجا ئیں لیکن انہیںوہاںپوائنٹ سکورکرنے کی بجائے پسماندگان کے آنسوپونچھنے کیلئے جاناچاہئے۔اگر وہ صرف انسانی جذبے کے تحت جاتے ہیں تو پھرمیڈیا کوریج سے گریز کیا کریں ،کیونکہ اس کوریج سے ہزاروں انسانوں کی دل آزاری بھی ہوتی ہے ۔یاتوہمارے حکمران اورسیاستدان ہرمظلوم کے گھر میں جایاکریں ورنہ یاتکلف نہ کیا کریں ۔حکمرانوں اورسیاستدانوں کی" حاضری" انصاف پراثر اندازہوسکتی ہے کیونکہ اس طرح ہمارے تفتیشی پولیس اہلکار دباﺅمیں آجاتے ہیں اوردباﺅمیں آکر کی جانیوالی انکوائری کے ناقص ہونے کاامکان بڑھ جاتا ہے ۔اگر مظلوم خاندان کوانصاف بھی ارباب اقتدار نے فراہم کرناہے توپھر ہمارے اداروں اورسرکاری افسروں کوکسی اورکام پرلگادیا جائے ۔جو کام ہمدردی کی بجائے محض دکھاوے کیلئے کیا جاتاہے اس کانتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو جرم بیگناہی کی پاداش میں امریکہ نے قید کررکھا ہے لیکن اس مظلوم ،معصوم اورباوقارخاتون کی رہائی کیلئے ہمارے حکمرانوں نے اس طرح آوازنہیں اٹھائی جس طرح ان کی طرف سے شازیہ کے قتل پرصدائے احتجاج بلند کی گئی۔مسلم لیگ (ن) کے قائدمیاں نوازشریف ،وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف،پنجاب کے سینئر وزیرراجہ ریاض ،اقلیتوں کے وفاقی وزیرشہبازبھٹی اورصوبائی وزیرکامران مائیکل نے ڈاکٹر عافیہ کے ویران گھر میں جاکرکبھی ان کے غمزدہ خاندان کوحوصلہ نہیں دیا ۔متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں لیکن کوئی حکمران یاوزیراورمشیر نہیں جوان کے منتظر ورثا کاغم بانٹے۔
کیاڈرون حملے کے نتیجہ میں معصوم بچے نہیں مارے جاتے ۔ڈرون حملے سے صرف انسان نہیں مرتے بلکہ وہاںمختلف پالتو جانور اورشجر بھی فناہوجاتے ہیں۔انسانوں اورجانوروں کے حقوق کی علمبردار مغرب اورمشرق کی این جی اوزاس درندگی پرکیوں خاموش ہیں۔وانااوروزیرستا ن میں ڈرون حملوں سے اب تک سینکڑوں شازیہ زندہ زمین میں دفن ہوچکی ہیں لیکن ان کی موت پرآج تک کسی حکمران یامقبول سیاستدان کے خون نے جوش نہیں مارا۔کوئی حکمران یاسیاستدا ن نہیں جوانہیں انصاف دلائے اور وہاں جا کر غمزدہ خاندانوں کے زخم پرمرہم لگائے۔شازیہ کے خاندان کوتوپندرہ بیس لاکھ روپے مل گئے جوایک اچھی بات ہے لیکن کسی حکمران یاسیاستدان کو وزیرستان کے کسی مظلوم خاندان کی مالی مدد کرنے کی توفیق نہیں ہوئی ۔ایک بات یاد رکھیںآگ بھڑکانے سے انتہاپسندی کی آگ نہیں بجھے گی۔ہمارے حکمرانوں میں سے کوئی اس آگ کوبجھانے کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ ان کا سرمایہ ،کاروبار ،گھرباراوران کے بچوں سمیت سب کچھ توپاکستان سے باہرہے۔اگرایٹمی پاکستان کوبیرونی دباﺅ،مداخلت، اندھیرے ،افراتفری ،عدم استحکام ،بھوک ،دہشت گردی،جہالت اورپانی کے بحران کاسامنا ہے توانہیں اس سے کیا یہ توپاکستان میں بیٹھ کرفرانس کاپانی پیتے ہیں۔جہاں پورے پورے خاندان زندہ جلادیے جائیںگے وہاں راکھ سے انتہا پسندپیدا نہیں ہوں گے تو کیاوہاں پھول کھلیں گے ۔