لاہور: پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے
[2010-03-07] قومی مفاہمت کاراستہ میثاق جمہوریت سے ہوکرجاتا ہے ۔ ملک افضل کھوکھر
لاہور ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی وممبر قومی اسمبلی ملک محمدافضل کھوکھر نے کہا ہے کہ قومی مفاہمت کاراستہ میثاق جمہوریت سے ہوکرجاتا ہے۔اگر صدرزرداری واقعتا ملک میں مفاہمت کافروغ چاہتے ہیں توانہیںمنتخب پارلیمنٹ کواس کے آئینی اختیارات واپس کرناہوں گے ۔قومی مفاہمت اورسیاسی ومعاشی استحکام کاخواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے 1973ءکاآئین بارہ اکتوبر1999ءوالی پوزیشن پربحال کرناہوگا۔سترہویں ترمیم کے حوالے سے ارباب اقتدارکی پس وپیش نے ان کی بدنیتی کابھانڈا پھوڑدیا ہے۔جوہرٹاﺅن میں اپنے ڈیرے پرایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمدافضل کھوکھر نے مزید کہا کہ حکمران مسلسل دوسال سے عوامی جذبات کامذاق اڑا رہے ہیں،انہوں نے اپنے وعدے وفانہیں کئے توخود مذاق بن جائیں گے ۔ارباب اقتدار1973ءکے آئین کی بحالی بارے قوم کوخوشخبر ی ملنے کامژدہ سناتے ہیں لیکن سنانابھول جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فوجی آمر کو ایوان صدر سے گارڈآف آنر کے ساتھ رخصت کرنے والے 1973ءکاآئین اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ایک طرف حکمران بار بار قوم کے ساتھ میثاق جمہوریت کی پاسداری کاعہد کرتے ہیں اوردوسری طرف اس کی دھجیاں بکھیر نے سے بھی گریز نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ ججز کی بحالی کے بعد ججز کی تقرری کے ایشوپر بھی ایوان صدر کوپسپاہوناپڑا لیکن اس کے باوجود نااہل مشیروں کوفارغ نہیں کیا گیا ۔جولوگ صدرزرداری کوسترہویں ترمیم ختم اورپارلیمنٹ کواس کے اختیارات واپس نہ کرنے کامشورہ دیتے ہیں وہ ان کے دوست نہیں دشمن ہیں۔